Posts

خدا کرے

Image
سنو! دیس کی  بہاریں لُوٹنے والو خدا کرے  کہ تم کبھی  ہرے نہ ہو خزاؤں سے  ساز باز کر  لی تم  نے خدا کرے کہ یہ خواب سچا نہ ہو جسکی بنیاد میں ہے فقط سیاہی خدا کرے کہ  یہ محل کھڑا نہ ہو تو سنے سدا اپنے ظلم کے افسانے خدا کرے  کہ تو کبھی بہرا نہ ہو ماتم کناں ہے ، افسردہ  ہے گلشن خدا کرے کہ شبِ غم سدا  نہ ہو شاعر ضیغم سلطان

افق پار

Image
افق پار ڈوبتے سورج کو دیکھا تو سمندر بھی زار زار رونے لگا سرمئی رنگ چھا گیا ہر طرف اور قمر بادلوں میں چھپنے لگا پرندے آشیانوں میں لوٹ گئے جگنو بھی چپ چاپ سونے لگا سناٹے پھیلے اتنے رگ و پے میں سکونِ قلب بھی اب کھونے لگا رات اتری ہے بستی میں کیسی چراغِ راہ بھی مدھم پڑنے لگا شاعر ضیغم سلطان

کاروانِ بہار

Image
کاروانِ بہار سے بچھڑ کر بلبل نے رو رو کے شب و روز  گزارے ہیں مت پوچھو حالِ صحنِ چمن تم جہاں الو سب کے راج دلارے ہیں مرقدِ بہاراں پہ، خزاں سے بچ کر مالی نے کچھ گلاب سنوارے ہیں عہدِ بہار میں سوئے دشت جانا پڑا  تنہا تتلی کے درد کئی سارے ہیں عالمِ بےسروسامانی کا کیا بتائیں چند خواب ہی  اپنے سہارے ہیں اندھیرے اور ویرانے ہیں باغ میں اور فلک پر یہ خاموش تارے ہیں آندھیوں نے زور تو خوب لگایا تھا یہ کس نے کہا ہے کہ ہم ہارے ہیں شاعر : ضیغم سلطان

امر بیل

Image
امر بیل امر بیل نے جکڑا  ہے ہر شجر کو ظلمتوں میں گِھر گئے ہیں جگنو شکستہ ناؤ ڈوبتی  جاتی ہے اب سرمئی  دھنِک چھائی ہے ہر سو دورِ  گرگِ آشتی ہے ، سنبھل کے دوست کے بھیس میں ہیں عدو رنجور ہے گُل اور  بلبل خاموش بہارِ بےخزاں  دفن ہے کنارِ آبجو کب تلک ماتم ہو گا , کیا معلوم کہاں چلا ہے ساقی توڑ کے سبو شاعر : ضیغم سلطان

اداس پھول

Image
اب رنگ کہاں ہے سلامت گلشن میں جابجا چھائی ہے قیامت گلشن میں آخری کلی بھی مٹی اوڑھے سو گئی  تا حدِ نظر ہے بنجر دشت گلشن میں کب تک لڑتی ناتواں بہار ، خزاں سے ہر سِمت پھیلی ہے دہشت گلشن میں گِدھوں کا راج ہے، محکوم ہوئے بلبل الو کہے ہر قدم کو درست گلشن میں امر بیل نے سوسن کو رلا رلا کے مارا کہاں سے آئی یہ نرگسیت گلشن میں زرد موسم کو کس نے بلاوے بھیجے  یہ کیسی ہے بوئے بغاوت گلشن میں کانٹے ہیں، بھونرے ہیں ، گل چیں ہے اب گُل کسے کہے دوست گلشن میں شاعر : ضیغم سلطان

بے مایہ

Image
موم کب تلک دھوپ  کا کرتی مقابلہ آہستہ آہستہ سوا نیزے پہ سورج آیا غرور تھا بہار  کو اپنی رعنائیوں پر اک دن اسکی بزم میں دورِ خزاں آیا دشتِ بےآب میں جلتے گزاری حیات ہم جل مرے تو ٹسوے بہاتا بادل آیا تھا  دعویٰ حُب، چکور کو  چاند سے خموش رہا وہ جب وقتِ امتحان آیا کہتا تھا اک روز وہ کہ "تو کون ہے؟" آج  وہ بتِ بیداد  بہت لاچار نظر آیا شاعر : ضیغم سلطان

وقتِ ہجرت

Image
جگنو مر رہے ہیں ، بے چراغی ہے دم گھٹ رہا ہے ، ہر طرف خلا ہے سوئے دشت چلنے کا ارادہ ہے اب تشنہ لب ہوں ، بادل خاموش ہے خزاں نے لوٹ لی چمن کی رونق نرگس اشکبار ہے، کلی بے قرار ہے اسکے در سے چلے آئے خالی ہاتھ خواب ٹوٹے ہیں, اور آنکھ نم ہے بستیاں اجڑ کے راکھ ہوئیں یہاں زہر زہر نگر ہے, وقت ہجرت کا ہے شاعر : ضیغم سلطان

تلاطم

Image
اداس کشتی، شوریدہ سمندر میں ساحلوں کا ٹھکانہ ڈھونڈتی پھری آرزوئے بہار میں بھٹکتی تنہا بلبل دمِ آخر تک دشت میں گاتی پھری کر کے تباہ ہر گل، ہر کلی ، ہر شجر خزاں اپنی سیاہیاں چھپاتی پھری   سنگ دل چاند تاروں میں گھرا رہا دِل زدہ چکور اپنا دل جلاتی پھری یہ دنیا ہے جو صدائے "انا الحق" کو  ہمیشہ مثلِ حرفِ غلط دباتی پھری شاعر : ضیغم سلطان

روتا چاند

Image
"تلاش" کون جانے ، کیوں بلبل چھپ گئے کون جانے ، کیوں پھول  جل گئے کون جانے ، کیوں یہ جگنو اڑ گئے کون جانے، کیوں یہ باغ سہم گئے کون جانے ، کیوں  ترازو ٹوٹ گئے کون جانے ، کیوں  ضمیر جکڑ گئے کون جانے ، کیوں یہ شجر گر گئے کون جانے ، کیوں یہ  آسیب آ گئے کون جانے ، کیوں کرنیں  کھو گئیں کون جانے، کیوں شمعیں سکڑ گئیں کون جانے، کیوں یہ تتلیاں مر گئیں کون جانے، کیوں یہ بہاریں ڈر گئیں کون جانے، کیوں خزائیں ٹھہر گئیں کون جانے ، کیوں مِنتیں بےاثر گئیں کون جانے، کیوں یہ ندیاں رک گئیں کون جانے ، کیوں یہ راہیں گُم گئیں کون جانے، کیوں برسات روٹھ گئی کون جانے، کیوں بادِ صبا تھم  گئی   کون جانے، کیوں یہ ظلمت بڑھ گئی کون جانے، کیوں یہ آواز رندھ گئی کون جانے، کیوں آبشار سوکھ گئی کون جانے، کیوں ریاضت برباد گئی کون جانے، کیوں یہ فصل بکھر گئی کون جانے، کیوں یہ دیوار ڈھے گئی کون جانے، کیوں چاند چپ ہو گیا کون جانے، کیوں اک ذرہ بپھر گیا کون جانے، کیوں یہ پہاڑ جھک گیا کون جانے، کیوں یہ دہر زہر بن گیا کون جانے ، کیوں وہ تشنہ  رہ گیا کون جانے ، کیوں ساقی  چلا  گی...

گُم صُم

Image
فضا گم  صم  ہوئی بوئے  بارود سے فاختہ ملول ہے کہ زیتون کھو دئیے روش روش جل رہا ہے چمنِ بدحال اور یہ سقاگر کہاں جا کے سو دئیے خود جلائے ہیں  چنار کے جنگل اور  جنجالی نے  ہر الزام جگنو  کو دئیے کسی سے کیا گلہ ، اب کیسی فریاد قسمت نے کیسے کم ظرف عدو دئیے تھی جن سے امیدیں مہر و وفا کی انھوں نے ہی  ہزار ہا بارِ اندوہ دئیے لوٹ آئیں گے اک دن اس گلزار میں بے خانُماں چرند جاتے ہوئے رو دئیے گلچیں! تم کیسے داخل ہو  گے یہاں جہاں قدم قدم تم نے سُول بو دئیے شاعر : ضیغم سلطان

خسارے

Image
دکھوں میں گِھری بیٹھی ہے بستی وہ خسارے ہوئے جن کا مداوا نہیں ظلم دیکھ کے خموشی ہے اک گناہ ظالم کی بیعت انسان کو روا نہیں آہِ مظلوم سے تاج اچھلتے دیکھے یہ حقیقت ہے ، محض دعویٰ نہیں دین بھول گئے ، دنیا میں مگن رہے پھر کہنا کہ درِ عدن کیوں وا نہیں لاکھ کھاتی پھرے قسمیں امر بیل گلشن میں کسی کو تری پَروا نہیں شاعر : ضیغم سلطان

امیدِ سحر

Image
ابھی بہاروں کے دیس بھی جانا ہے اے دل تُو تب تلک دھڑکتے رہیو بس خزاں کا شور سنتے ہیں صحنِ چمن گل و گلزار تُو سدا مہکتے رہیو بس ہے منزل دور، پرایا دیس، تنہا چاند تیرا کام ہے چلنا، تُو چلتے رہیو بس تحریر و تقریر پر پہرے ہیں تو کیا شبِ سیاہ ہے مگر تُو گاتے رہیو بس دِکھے جب تنہا بلبل، اندھیروں میں ترا فرض ہے تو جگنو بنتے رہیو بس شاعر : ضیغم سلطان

کاش

Image
کاش بادِ عیسیٰ ہمارا نصیب ہوتی ہم قلبِ مضطر سے ہی ناآشنا ہوتے شاعر : ضیغم سلطان

اُمید و بیم

Image
دشت میں دربدر ہیں ، تو کیا ہوا گلستاں میں نسیم دوبارہ آئے گی نظام دہر زیر و زبر ہے، مگر دیکھنا جیون میں روشنی دوبارہ آئے گی جنگل جنگل جگمگائے گا ایک دن راکھ میں دھڑکن دوبارہ آئے گی سوگ ختم ہو گا ، شاد ہو گا دل نغمہ زن بلبل نظر دوبارہ آئے گی پہاڑ بھی سر نگوں ہو جائیں گے تتلی باغ میں نظر دوبارہ آئے گی شاعر : ضیغم سلطان English version Though we wander through deserts, so what? The breeze will return to the garden once more. Though the world is topsy-turvy and broken, Light will shine in life again. Forests will one day glitter and glow, From ashes, the heartbeat will rise once more. Grief will end, the heart will rejoice, The nightingale’s song will grace our eyes again. Even mountains may bow and crumble, Yet butterflies will dance in gardens once more.

!او مالی

Image
مالی نے جب کمر کسی، اُسی دن  گِدھوں، کوؤں کو باغ نکالا ہو گا ہوں گی طویل، خموش، سیاہیاں ایک دن بعد از ظلمت اجالا ہو گا گلفام ہوں گے رقصاں، چمن میں جب جب خزاں کا منہ کالا ہو گا جفا پروری کی انتہا دیکھیں گے سب تخت و تاج  تہ و بالا ہو گا یعقوب وار گِریہ کرے ہے خلقت لب خموش، دل میں جوالا ہوگا شاعر : ضیغم سلطان

شبِ تار

Image
شبِ تار ہے اور الو ہیں ویرانے میں زہر ناک سناٹا ہے اور کچھ نہیں ہے پوشاکِ دریدہ کو رفو گر چھوڑ گیا امیدِ لہو رنگ ہے اور کچھ نہیں ہے رونقیں بکھر گئی ہیں عہدِ بہار میں رقصِ زرداں ہے اور کچھ نہیں ہے ضبطِ غم کا کچھ حاصل بھی ہوتا اشک بار شمع ہے اور کچھ نہیں ہے زیرِ طلسم ہیں گل، بلبل اور صنوبر پژمردہ سرو ہے اور کچھ نہیں ہے مرے مسیحا! سب مرہم رائگاں گئے ماروا کو سنئے، اور کچھ نہیں ہے شاعر : ضیغم سلطان

نشیب و فراز

Image
خوئے وفا رو بہ زوال ہے دہر میں ساقی کے بدلے بدلے سے انداز ہیں دیکھے ہیں کبھی سُونے جھروکے سنسان حویلی میں کئی راز ہیں نہ تھے غم مُدام، نہ خوشی ابدی ابھی باقی کئی نشیب و فراز ہیں جان سے گزرے تو بھرم ٹوٹ گئے ہم سمجھے کہ وہ بندہ نواز ہیں تھیں رونقیں ہر سُو، ہر دم میلے اب شادمانیاں شہنایاں شاذ ہیں سن لو جو فرمان ہو، مگر یاد رہے مت کان دھرو، وہ تو زٹل باز ہیں شاعر : ضیغم سلطان

پاتال

Image
دیکھا عجیب منظر، کارگاہ دہر میں ہیں سیاہ دل لوگ جو دعائیں بانٹیں صفا کیشی عیب ہے، دورِ حاظر میں عیب کوش حضرت تو فتوے بانٹیں سمّ ہیں جن کے باطن، خدا کی شان صبح و شام، وہ ساقی تِریاق بانٹیں دل میں رات لئے، جو زندہ ہیں ابھی دمِ آخر بھی دنیا میں ظلمت بانٹیں خزاؤں بھری، چشمِ ذرد ہے جس کی وہ مالی نگر نگر گلشن و بہار بانٹیں ہمت وری کے استعارے ہیں یہ تارے ہیں سوختہ دل مگر روشنیاں بانٹیں شاعر : ضیغم سلطان

قصہ ہائے گل و بہاراں

Image
قصہ ہائے گل و بہاراں امر رہے گا گل چیں کو بھلا کون یاد کرے گا آگ لگائی جس نے، وہ پل پل جلا افعیان کو بھلا  کون یاد کرے گا رہے خوش گمانیوں میں گم صیاد پاجیوں کو بھلا کون یاد کرے گا تلاشِ سکوت جن کی مکمل ہوئی طلاطم کو بھلا کون یاد کرے گا دل کہے گا جب اناالحق اناالحق اصنام کو بھلا کون یاد کرے گا جب روشن ہیں پھر سے جگنو تو اظلام کو بھلا کون یاد رکھے گا شاعر: ضیغم سلطان

بےکلی

Image
آمد آمد ذرد خزاں کی ہے کلی کلی باغ کی بےکل ہے گُم صُم سی چڑیا روئے ہے نگر نگر تو فقط بَھگَل ہے چپ چاپ سا یہ جہان ہے ٹوٹا ٹوٹا سا چاند شل ہے تھر تھر سا لرزتا جگنو ہے دریا دریا، سنسان تھل ہے ٹِم ٹِم مرتا ننھا چراغ ہے ریزہ ریزہ خواب محل ہے شاعر : ضیغم سلطان

بہار قفس میں ہے اور خزاں آباد ہے

Image
بہار  قفس  میں اور خزاں  آباد ہے گلشنِ دہر کی روش روش برباد ہے نرگس نم دیدہ رہی مگر اب سنا ہے تتلی بےبس ہے، بلبل بھی ناشاد ہے چراغ گُل ہیں، بزم بھی بےرونق ہے ساقی کا  دل اب بہ مائلِ فساد  ہے چمن کا ہر گُل اور کوئل پریشان ہے آگے ہے گُلچیں اور پیچھے صیاد ہے نہ کرم تمھارا، نہ ستم ہی بھولا ہے کم نگاہی تمھاری  اب  بھی یاد  ہے معصوم قید ہے ، ظالم کو سلام ہے ٹوٹ چکی ترازو اور  سگ آذاد  ہے زخم رِستے  رِستے ناسور بن گیا ہے طبیب کو بلاؤ ، فریاد ہے ، فریاد ہے شاعر : ضیغم سلطان

لاہور سے آگے

Image
"لاہور سے آگے" گرمی سے بےحال تھے حبس سے نڈھال تھے شمال سے یخ ہوا آئی ہم نے اک ترکیب لڑائی چلتے چلتے مری پہنچے چناروں کے دیس پہنچے وہاں بہار ہی بہار تھی اک ٹھنڈی آبشار تھی دیو قامت بلند پہاڑ تھے سبز شاداب اشجار تھے حسین وادیاں تھیں گہری کھائیاں تھیں فطرت سے روبرو ہوئے بوئے گل سے آشنا ہوئے مگر اک بات سچ ہے کہ لاہور لاہور ہے شاعر : ضیغم سلطان

قحط

Image
مسرتوں کے قحط میں جیتے ہیں یہ طوفان آخر کب ختم ہوں گے؟ نسیمِ بادِ بہاری کے منتظر ہیں ہم  قفس کے یہ دن کب ختم ہوں گے؟ پاؤں شل ہو گئے ہیں چلتے چلتے یہ اجاڑ رستے کب ختم ہوں گے؟ ردائے غم و الم اوڑھی ہے چمن نے خزاؤں کے راج کب ختم ہوں گے؟ سیاہیاں، تباہیاں پھیلیں آنگن میں تقدیر کے ستم کب ختم ہوں گے ؟ شاعر : ضیغم سلطان

قطعہ

Image
گلوں کو  مہکنے تو دو کلیوں کو کِھلنے تو دو جنگیں ہیں فقط تباہی تتلیوں کو جینے تو دو شاعر : ضیغم سلطان

دھندلے دھندلے منظر

Image
دھندلے دھندلے منظر دھواں دھواں آنکھیں روٹھے روٹھے قمر خون خون آہیں زرد زرد گل و ثمر سرد سرد شامیں آستین آستین خنجر بجھی بجھی کرنیں قریہ قریہ بنجر بھولی بسری یادیں  تھکے تھکے شجر آدھی ادھوری باتیں پتھر پتھر شہر قدم قدم گھاتیں شاعر : ضیغم سلطان

نین برکھا میں دل ڈوب مرا کب کا

Image
نین برکھا میں دل ڈوب مرا کب کا یادوں کا ریلہ بہا لے گیا سب کچھ کیسی عیدیں، کہاں کے تہوار اب وقت کا راہزن لے گیا سب کچھ تیرے بعد خاموشی مقدر ٹھہری تو گیا اور میرا لے گیا سب کچھ کیا دور تھا، جب ہر سو بہار تھی گلچیں چمن سے لے گیا سب کچھ غلط تھے ہم کہ وقت اپنا ہے سدا ظالم وقت ہمارا لے گیا سب کچھ شاعر : ضیغم سلطان

برکھا میں بیتے دن یاد آ رہے ہیں

Image
برکھا میں بیتے دن یاد آ رہے ہیں جب شہنائیوں سے آشنائی تھی ہر لمحہ مہکتا تھا صندل سا اپنا جب گل و گلزار سے گفتگو تھی اندھیروں کا کہیں نام تک نہ تھا حویلی قِندیلوں سے روشن تھی سازِ ہستی خوش نوا تھی ہر دم ہر ساعت بہاروں سے پُرامید تھی وہ بہاریں اب کہاں ڈھونڈیں جو تیری خوشبوؤں سے لبریز تھی شاعر : ضیغم سلطان

چنار جل جل کے راکھ ہوئے

Image
چنار جل جل کے راکھ ہوئے رو رو کے نرگس نڈھال ہوئی نازک تتلیاں سوگ میں ہیں  غم کشیدہ بلبل بےتال ہوئی نسیمِ بہار سہمی بیٹھی ہے رونقِ چمن رو بہ زوال ہوئی شگوفے مسکرانا بھول گئے بوئے گل پریشان حال ہوئی دھنک کے سب رنگ چُھوٹے آرزوئے رنگ و بو وبال ہوئی شاعر : ضیغم سلطان

منتظر ہے کائنات، عہدِ بہار کی

Image
منتظر ہے کائنات، عہدِ بہار کی خزاں کبھی تو چمن بدر ہو گی اب تاریکی میں رہنا گوارا نہیں  دیکھنا ہے کب نمودِ سحر ہو گی سب تلپٹ ہے, مگر کیسا شکوہ تمھیں کہاں ہماری خبر ہو گی؟ عیاں ہوں گی جب انکی چالیں تب محفل میں اپنی قدر ہو گی مت جانا کبھی کوئے صیاد تم اس کی ہر بات فقط شر ہو گی شاعر : ضیغم سلطان

خوشبوؤں میں بسا چمن چھوڑ آئے

Image
خوشبوؤں میں بسا چمن چھوڑ آئے کئی صندلی, گلابی خواب چھوڑ آئے اندوہ نصیبی کا کیا پوچھتے ہو تم اگتا سورج , چمکتا چاند چھوڑ آئے مرتے جگنوؤں کو کون روئے گا یہاں گلچیں باغ میں ردائے زرد چھوڑ آئے منور تھا جن سے شہرِ دل اپنا، جب وہ گئے، تو محفلِ بےچراغ چھوڑ آئے جب صدائے دل کی شنوائی نہ ہوئی پھر ہم اس بتِ بیداد کو چھوڑ آئے شاعر : ضیغم سلطان 

مرغانِ چمن غم دیدہ ہیں عرصے سے

Image
مرغانِ چمن غم دیدہ ہیں عرصے سے تتلیاں و جگنو اداس ہیں عرصے سے سرو و صنوبر کے کندھے جھکے ہوۓ بادِ سموم کی زد میں ہیں عرصے سے بادل بھی  ترکِ وطن پہ مجبور ہوئے بنجر  کھلیان پیاسے  ہیں عرصے سے دورِ ظلمت  کیوں نہ ہو طویل  یہاں شمش اور قمر مقید  ہیں عرصے سے ضرور ایک دن یہ محل گر جائیں گے ان کے تاج لرز تو رہے ہیں عرصے سے شاعر : ضیغم سلطان

سوگ طاری ہے شہرِ دل میں اب کے

Image
سوگ طاری ہے  شہرِ دل میں اب کے زردیاں اتر آئیں بہاروں  میں اب کے کھارے بادل برسے کھل کے رات بھر چمن کو کس کی نظر لگی ہے اب کے گریہ و زاری کرتے رہے  بیابانوں میں حالِ دل کوئی اپنا بھی سنتا اب کے مرگ آسا خاموشیاں ہیں تعاقب میں نغمۀ جان فزا سنے زمانہ بیتا اب کے چند سوال لکھ بھیجے ہیں صیاد کو منتظر ہوں، کب آتا ہے جواب اب کے شاعر : ضیغم سلطان

ظلمتوں کے دور چھٹنے ہی والے ہیں

Image
ظلمتوں کے دور چھٹنے ہی والے ہیں  تُو اگتے سورج, مہکتے گل دیکھے گا دور ہو جائیں گے تمام غم تیرے بھی تُو نیل میں ڈوبتے فرعون دیکھے گا  بُنے امیرِ شہر ہزار سازش، تو کیا، تُو  یہ محل، ریت کےٹیلے بنتے دیکھے گا وہ وقت بس ہی آیا سمجھو، جب تُو غلام گردش کو وادئ نور دیکھے گا   بنے بیٹھے ہیں جو ناخدا، خدائی کے تو وہ پہاڑ بھربھرے ہوتے دیکھے گا شاعر : ضیغم سلطان

سنو ! عہدِ بہار پھر سے آئے گا

Image
سنو ! عہدِ بہار پھر سے آئے گا گلشن پہ جوبن پھر سے آئے گا ملال جاتا رہے گا آہستہ آہستہ ہلالِ نو فلک پہ پھر سے آئے گا مسکرانا بھول بیٹھے تھے جو بلبلوں کا غول پھر سے آئے گا ڈوبے تھے جو, پھر ابھریں گے چمکتا سورج پھر سے آئے گا خواب کاری کا ہم پہ الزام مگر خواب سننے تُو پھر سے آئے گا شاعر ضیغم سلطان

اب دھوپ کے ڈیرے ہیں بستی میں

Image
اب دھوپ کے ڈیرے ہیں بستی میں چھاؤں نہ جانے کہاں ہجرت کر گئی پنچھی کہتے، دیکھ کے اجڑے گلشن کیا رُت ہے، میلے بھی اداس کر گئی تباہ ہیں باغ، وہ فاختائیں اب کہاں سبز قدم خزاں، ہر غنچہ فنا کر گئی صیاد حیران ہے کہ قفس ٹوٹا کیسے صبا مسرور کہ قسمت یاوری کر گئی گلچیں چاہے لاکھ بوئے گل کو روکے لیکن بانگِ گُل اپنا فرض ادا کر گئی شاعر : ضیغم سلطان

شدتِ غم سے سیاہ ہوئے گل و لالہ

Image
شدتِ غم سے سیاہ ہوئے گل و لالہ بلبل و مینا بھی اڑان بھرنے کو ہے اُلو ہی اب بولیں گے عہدِ بہار میں اب ہنرِ چمن بندی بھی مرنے کو ہے سرو و صنوبر کے قصے کیا سنائیں ان پر خزاؤں کا عذاب اترنے کو ہے تکان سے چُور، چکور کو چاند بھولا کہ زمانے میں سو کام کرنے کو ہے ہر سُو خاموشی طاری ہے، لگتا ہے شیرازۀ نخلِ ہستی بکھرنے کو ہے شاعر : ضیغم سلطان

بہاروں سے ان بن ہے اپنی آج کل

Image
بہاروں سے ان بن ہے اپنی آج کل یہ اکیلا چاند کیوں اتنا راجی ہے کیا پوچھتے ہو، حالات کا ہم سے یہ عہدِ ظَلم ہے، یہ دور نِراجی ہے جب اپنے حق کے لئے آواز اٹھائی حکم آیا کہ زباں ردازی اکاجی ہے یہ مت جانو کہ  خدائی انجان ہے یہ ترا قدم قدم ہی اِستدراجی ہے آگ لگاؤ گے جب کسی آشیانے کو مت بھولو تمھارا قصر زُجاجی ہے کب تک کرے کوئی گلشن افروزی جب گُل ہی ہو مائل بہ تاراجی ہے سج دھج کے آئے گی صبح روشن اداسی ہے ، پیرہنِ شام ملگجی ہے شاعر : ضیغم سلطان معنی : * راجی : پُر امید * ظَلم : گمراہی * نراجی : انتشاری * اکاجی : نقصان دہ * اِستدراجی : شیطانی شعبدہ بازی * زجاجی : شیشے کا بنا ہوا * گلشن افروزی : باغبانی * مائل بہ تاراجی : بربادی کی طرف * پیرہن : لباس * ملگجی : بوسیدہ سا

گردشِ دوراں نے یہ بھی دن دکھائے

Image
گردشِ دوراں نے یہ بھی دن دکھائے کہ تلاش کرتے ہیں ہم چمن کا راستہ جھیل چکے بہت سادہ پرکار لوگ ہم اب  کسی سے  رابطہ ہے ، نہ واسطہ خبر گرم  ہے کہ اب بہار کا راج ہو گا گل و بلبل  نے کیا ہے خود کو آراستہ شائستگی کی توقع  عبث ہے اُن  سے جن کا ظاہر ہے شر ، باطن ناشائستہ جو ہم سے ملاقات کے روادار نہ تھے ہم گئے ان کے در پہ با دِل نا خواستہ شاعر : ضیغم سلطان

رات ہو چکی ، یہ چاند کب نکلے گا

Image
رات ہو چکی ، یہ چاند کب نکلے گا ہر طرف اندھیرے چھائے  ہوئے ہیں ہنستے تھے ہم پہ جو لوگ، بزم میں وہ احباب اب منہ چھپائے ہوئے ہیں اشک شُوئی کے ڈھونگ مت کرو تم ہم تو غمِ دوراں کے ستائے ہوئے ہیں روزِ عید ہے ، سحابِ غم ہیں ہر سو گل و گلزار بھی مرجھائے ہوئے ہیں ان کے سائے سے بھی پرہیز ہے ہمیں یہ بھان متی ہم نےآزمائے ہوئے ہیں سوئے دشت چلئے اب تو، یہاں سب آستین میں سانپ سجائے ہوئے ہیں کیا پوچھتے ہو باعثِ خفگی ان کی آئینہ دکھایا ہے تو تلملائے ہوئے ہیں شاعر : ضیغم سلطان

صحنِ عالم میں دل نہیں لگتا اب

صحنِ عالم میں دل نہیں لگتا اب یہ کیسا اندھیرا  ہے بہاروں میں کیوں دیتے ہو صدا  جگنوؤں کو نہیں ہے وہ اپنے غمخواروں میں کیا ہوتا گر نہ کرتے تغافل ہم سے ہم بھی تھے ترے پرستاروں میں ساقی رختِ سفر باندھا بیٹھا ہے ہے خبر گرم آج مے خواروں میں مت پکارو اُس بتِ بیداد کو ورنہ چنوائے جاؤ گے تم دیواروں میں بھول جاؤ بعد از فتنہ کیشی کہ ہونگے ہم بھی تیرے یاوروں میں کیا کیا لعل غمِ جہاں نے لُوٹ لئے کئی فرہاد بکھرے کہساروں میں یاد گھر گھر لگی ہے اب قیس کی جو بھتکٹا پھرا  ریگ زاروں میں غارتِ چمن کا کیا پوچھتے ہو تم محافظوں کو دیکھا غداروں میں شاعر : ضیغم سلطان

بےرنگ، بےکیف زندگی ہو چلی ہے

بےرنگ ، بےکیف زندگی ہو چلی ہے بےنوریاں ہی ہیں اب نصیبوں میں کوئی  دشتِ حِرماں میں  کھو گیا کون بانسری بجاتا ہے کثیبوں میں آمد آمد ہے خزاں کی، خبر سن کے بےکلی ہی بےکلی ہے عندلیبوں میں ساقی کے نہ آنے سے دل ملول ہیں کیا رکھا ہے ان بےثمر تقریبوں میں محفلِ ناز میں ہم کب تک رہیں گے بحث چھڑی  ہے عبث رقیبوں میں شاعر : ضیغم سلطان

حُسامِ خون آشام کے نام

Image
روش روش خون کی ندیاں بہانے والے ترے کوچۀ دل پہ کھارے بادل برسیں شاعر : ضیغم سلطان

شعر

تلخیٔ حیات نے کر دیا ہے مضمحل اب شجرِ سایہ دار کی تلاش ہے شاعر : ضیغم سلطان

سوالیہ نشان

جواب دو، جواب دو، جواب دو کہاں ہو تم امیرِ شہر، جواب دو کس نے دریاۓ احمریں بہا دیئے کس نے لعل و یاقوت رول دیئے کس نے سر سبز شجر  توڑ دیئے کس نے  فاختہ کے پر نوچ دیئے جواب دو، جواب دو، جواب دو کہاں ہو تم امیرِ شہر، جواب دو کون ہے دشمنِ بہاراں  اس نگری کون ہے  خائفِ  نسائم اس نگری کون ہے قاتلِ جدلیات اس  نگری کون   ہے   دیوِ  تَعَدّی  اس نگری جواب دو، جواب دو، جواب دو کہاں ہو تم امیرِ شہر، جواب دو کسے ہے ڈر نرگس و سوسن سے کسے ہے خوف سرو و چمن سے کسے ہے مرگ تحریر و تقریر سے کسے ہے تکلیف عقل و فہم  سے جواب دو، جواب دو، جواب دو کہاں ہو تم امیرِ شہر، جواب دو کیسے شیطان ہوئے زور آور یہاں کیسے ظالم گلچیں ہیں آذاد یہاں کیسے کوہ قاف سے جن آئے یہاں کیسے کالے کھارے بادل آئے یہاں جواب دو،  جواب دو، جواب دو کہاں ہو تم امیرِ شہر، جواب دو کیوں حبس کا موسم طویل ہے کیوں   بوئے بارود چمن میں ہے کیوں ہر  گل ، ہر شجر ملول ہے کیوں بہاروں کو   دیس نکالا ہے جواب دو،  جواب دو، جواب دو کہاں ہو تم امی...

انہونیاں

کس ڈگر پہ لے آئی ہے زندگی ایسا کبھی سوچا تو نہیں تھا بہاریں ہم سے روٹھ جائیں گی ایسا کبھی سوچا تو نہیں تھا اٹھے گی کبھی غم کی آندھی ایسا کبھی سوچا تو نہیں تھا تیرے در سے دربدر ہوں گے ہم ایسا کبھی سوچا تو نہیں تھا نظریں پھیرے گا ہم سے ساقی ایسا کبھی سوچا تو نہیں تھا نیند آنکھ سے روٹھ جائے گی ایسا کبھی سوچا تو نہیں تھا بےکلی ہو گی ہر گھڑی دل کو ایسا کبھی سوچا تو نہیں تھا راکھ ہو جائیں گے سب خواب ایسا کبھی سوچا تو نہیں تھا شاعر : ضیغم سلطان

خون آشام بلائیں ہیں رقصاں

خون آشام بلائیں ہیں رقصاں دیارِ نور میں کب سورج آئے گا ہر فرعون کے لئے موسیٰ آیا ہے ضرور ہمارا مسیحا بھی آئے گا لائے ہو فِیل تو ہم کیوں ڈریں دیکھنا ، ابابیل کا جھنڈ آئے گا جس طاقت کا ہے تمھیں گھمنڈ یہ زورِ بازو کسی کام نہ آئے گا جب آہِ مظلوم عرش ہلا دے گی اس دن ہی تمھیں سمجھ آئے گا شاعر : ضیغم سلطان

نیروئے پاکستان کے نام

یزید کے شاگرد نمرود کے پجاری چنگیز کے حمایتی فرعون کے حواری ہٹلر کے جانشین بے رحم شکاری راون کے پروردہ ہر بات میں مکاری چانکیہ کی طرفدار ہے افسر شاہی ہماری شاعر : ضیغم سلطان

بہاروں سے جانے کب ملاقات ہو گی

بہاروں سے جانے کب ملاقات ہو گی خزاں ہمارا پیچھا چھوڑتی ہی نہیں خموشی سے رات کٹے گی اب کیسے یادیں ہمارا پیچھا چھوڑتی ہی نہیں گل اداس، بلبل بھی گیت بھول گئی راگنی ہمارا پیچھا چھوڑتی ہی نہیں خواب تھے ، خواب  و خیال  ہو گئے خلش ہمارا پیچھا چھوڑتی ہی نہیں پستے رہے ہم دیر و  حرم کے درمیان تکرار ہمارا پیچھا چھوڑتی ہی نہیں شاعر : ضیغم سلطان

گل کو کج فہمی ہے

گل کو کج فہمی ہے کہ یہ بہار دائمی ہے شاعر : ضیغم سلطان

نقشِ کہن مٹنے کو ہے۔

نقشِ کُہن مٹنے کو ہے غبارِ راہ چھٹنے کو ہے گُلزار پھر لہلہانے کو ہے بلبل پھر گنگنانے کو ہے زمانہ کروٹ بدلنے کو ہے نیروئے حاضر جلنے کو ہے آتش فشاں پھٹنے کو ہے فصیلِ قصر ڈھلنےکو ہے جو فصل کہ بوئی تم نے اس کا پھل پکنے کو ہے شاعر : ضیغم سلطان