خسارے
دکھوں میں گِھری بیٹھی ہے بستی
وہ خسارے ہوئے جن کا مداوا نہیں
ظلم دیکھ کے خموشی ہے اک گناہ
ظالم کی بیعت انسان کو روا نہیں
آہِ مظلوم سے تاج اچھلتے دیکھے
یہ حقیقت ہے ، محض دعویٰ نہیں
دین بھول گئے ، دنیا میں مگن رہے
پھر کہنا کہ درِ عدن کیوں وا نہیں
لاکھ کھاتی پھرے قسمیں امر بیل
گلشن میں کسی کو تری پَروا نہیں
شاعر : ضیغم سلطان
Comments
Post a Comment