بہاروں سے جانے کب ملاقات ہو گی

بہاروں سے جانے کب ملاقات ہو گی
خزاں ہمارا پیچھا چھوڑتی ہی نہیں

خموشی سے رات کٹے گی اب کیسے
یادیں ہمارا پیچھا چھوڑتی ہی نہیں

گل اداس، بلبل بھی گیت بھول گئی
راگنی ہمارا پیچھا چھوڑتی ہی نہیں

خواب تھے ، خواب  و خیال  ہو گئے
خلش ہمارا پیچھا چھوڑتی ہی نہیں

پستے رہے ہم دیر و  حرم کے درمیان
تکرار ہمارا پیچھا چھوڑتی ہی نہیں

شاعر : ضیغم سلطان

Comments

Popular posts from this blog

لاہور سے آگے

شبِ تار

روتا چاند