"لاہور سے آگے" گرمی سے بےحال تھے حبس سے نڈھال تھے شمال سے یخ ہوا آئی ہم نے اک ترکیب لڑائی چلتے چلتے مری پہنچے چناروں کے دیس پہنچے وہاں بہار ہی بہار تھی اک ٹھنڈی آبشار تھی دیو قامت بلند پہاڑ تھے سبز شاداب اشجار تھے حسین وادیاں تھیں گہری کھائیاں تھیں فطرت سے روبرو ہوئے بوئے گل سے آشنا ہوئے مگر اک بات سچ ہے کہ لاہور لاہور ہے شاعر : ضیغم سلطان
شبِ تار ہے اور الو ہیں ویرانے میں زہر ناک سناٹا ہے اور کچھ نہیں ہے پوشاکِ دریدہ کو رفو گر چھوڑ گیا امیدِ لہو رنگ ہے اور کچھ نہیں ہے رونقیں بکھر گئی ہیں عہدِ بہار میں رقصِ زرداں ہے اور کچھ نہیں ہے ضبطِ غم کا کچھ حاصل بھی ہوتا اشک بار شمع ہے اور کچھ نہیں ہے زیرِ طلسم ہیں گل، بلبل اور صنوبر پژمردہ سرو ہے اور کچھ نہیں ہے مرے مسیحا! سب مرہم رائگاں گئے ماروا کو سنئے، اور کچھ نہیں ہے شاعر : ضیغم سلطان
"تلاش" کون جانے ، کیوں بلبل چھپ گئے کون جانے ، کیوں پھول جل گئے کون جانے ، کیوں یہ جگنو اڑ گئے کون جانے، کیوں یہ باغ سہم گئے کون جانے ، کیوں ترازو ٹوٹ گئے کون جانے ، کیوں ضمیر جکڑ گئے کون جانے ، کیوں یہ شجر گر گئے کون جانے ، کیوں یہ آسیب آ گئے کون جانے ، کیوں کرنیں کھو گئیں کون جانے، کیوں شمعیں سکڑ گئیں کون جانے، کیوں یہ تتلیاں مر گئیں کون جانے، کیوں یہ بہاریں ڈر گئیں کون جانے، کیوں خزائیں ٹھہر گئیں کون جانے ، کیوں مِنتیں بےاثر گئیں کون جانے، کیوں یہ ندیاں رک گئیں کون جانے ، کیوں یہ راہیں گُم گئیں کون جانے، کیوں برسات روٹھ گئی کون جانے، کیوں بادِ صبا تھم گئی کون جانے، کیوں یہ ظلمت بڑھ گئی کون جانے، کیوں یہ آواز رندھ گئی کون جانے، کیوں آبشار سوکھ گئی کون جانے، کیوں ریاضت برباد گئی کون جانے، کیوں یہ فصل بکھر گئی کون جانے، کیوں یہ دیوار ڈھے گئی کون جانے، کیوں چاند چپ ہو گیا کون جانے، کیوں اک ذرہ بپھر گیا کون جانے، کیوں یہ پہاڑ جھک گیا کون جانے، کیوں یہ دہر زہر بن گیا کون جانے ، کیوں وہ تشنہ رہ گیا کون جانے ، کیوں ساقی چلا گی...
Comments
Post a Comment