Posts

Showing posts from March, 2026

روتا چاند

Image
"تلاش" کون جانے ، کیوں بلبل چھپ گئے کون جانے ، کیوں پھول  جل گئے کون جانے ، کیوں یہ جگنو اڑ گئے کون جانے، کیوں یہ باغ سہم گئے کون جانے ، کیوں  ترازو ٹوٹ گئے کون جانے ، کیوں  ضمیر جکڑ گئے کون جانے ، کیوں یہ شجر گر گئے کون جانے ، کیوں یہ  آسیب آ گئے کون جانے ، کیوں کرنیں  کھو گئیں کون جانے، کیوں شمعیں سکڑ گئیں کون جانے، کیوں یہ تتلیاں مر گئیں کون جانے، کیوں یہ بہاریں ڈر گئیں کون جانے، کیوں خزائیں ٹھہر گئیں کون جانے ، کیوں مِنتیں بےاثر گئیں کون جانے، کیوں یہ ندیاں رک گئیں کون جانے ، کیوں یہ راہیں گُم گئیں کون جانے، کیوں برسات روٹھ گئی کون جانے، کیوں بادِ صبا تھم  گئی   کون جانے، کیوں یہ ظلمت بڑھ گئی کون جانے، کیوں یہ آواز رندھ گئی کون جانے، کیوں آبشار سوکھ گئی کون جانے، کیوں ریاضت برباد گئی کون جانے، کیوں یہ فصل بکھر گئی کون جانے، کیوں یہ دیوار ڈھے گئی کون جانے، کیوں چاند چپ ہو گیا کون جانے، کیوں اک ذرہ بپھر گیا کون جانے، کیوں یہ پہاڑ جھک گیا کون جانے، کیوں یہ دہر زہر بن گیا کون جانے ، کیوں وہ تشنہ  رہ گیا کون جانے ، کیوں ساقی  چلا  گی...

گُم صُم

Image
فضا گم  صم  ہوئی بوئے  بارود سے فاختہ ملول ہے کہ زیتون کھو دئیے روش روش جل رہا ہے چمنِ بدحال اور یہ سقاگر کہاں جا کے سو دئیے خود جلائے ہیں  چنار کے جنگل اور  جنجالی نے  ہر الزام جگنو  کو دئیے کسی سے کیا گلہ ، اب کیسی فریاد قسمت نے کیسے کم ظرف عدو دئیے تھی جن سے امیدیں مہر و وفا کی انھوں نے ہی  ہزار ہا بارِ اندوہ دئیے لوٹ آئیں گے اک دن اس گلزار میں بے خانُماں چرند جاتے ہوئے رو دئیے گلچیں! تم کیسے داخل ہو  گے یہاں جہاں قدم قدم تم نے سُول بو دئیے شاعر : ضیغم سلطان

خسارے

Image
دکھوں میں گِھری بیٹھی ہے بستی وہ خسارے ہوئے جن کا مداوا نہیں ظلم دیکھ کے خموشی ہے اک گناہ ظالم کی بیعت انسان کو روا نہیں آہِ مظلوم سے تاج اچھلتے دیکھے یہ حقیقت ہے ، محض دعویٰ نہیں دین بھول گئے ، دنیا میں مگن رہے پھر کہنا کہ درِ عدن کیوں وا نہیں لاکھ کھاتی پھرے قسمیں امر بیل گلشن میں کسی کو تری پَروا نہیں شاعر : ضیغم سلطان