شبِ تار
شبِ تار ہے اور الو ہیں ویرانے میں
زہر ناک سناٹا ہے اور کچھ نہیں ہے
پوشاکِ دریدہ کو رفو گر چھوڑ گیا
امیدِ لہو رنگ ہے اور کچھ نہیں ہے
رونقیں بکھر گئی ہیں عہدِ بہار میں
رقصِ زرداں ہے اور کچھ نہیں ہے
ضبطِ غم کا کچھ حاصل بھی ہوتا
اشک بار شمع ہے اور کچھ نہیں ہے
زیرِ طلسم ہیں گل، بلبل اور صنوبر
پژمردہ سرو ہے اور کچھ نہیں ہے
مرے مسیحا! سب مرہم رائگاں گئے
ماروا کو سنئے، اور کچھ نہیں ہے
شاعر : ضیغم سلطان
Comments
Post a Comment