امیدِ سحر

ابھی بہاروں کے دیس بھی جانا ہے
اے دل تُو تب تلک دھڑکتے رہیو بس

خزاں کا شور سنتے ہیں صحنِ چمن
گل و گلزار تُو سدا مہکتے رہیو بس

ہے منزل دور، پرایا دیس، تنہا چاند
تیرا کام ہے چلنا، تُو چلتے رہیو بس

تحریر و تقریر پر پہرے ہیں تو کیا
شبِ سیاہ ہے مگر تُو گاتے رہیو بس

دِکھے جب تنہا بلبل، اندھیروں میں
ترا فرض ہے تو جگنو بنتے رہیو بس

شاعر : ضیغم سلطان

Comments

Popular posts from this blog

لاہور سے آگے

شبِ تار

روتا چاند