نشیب و فراز
خوئے وفا رو بہ زوال ہے دہر میں ساقی کے بدلے بدلے سے انداز ہیں دیکھے ہیں کبھی سُونے جھروکے سنسان حویلی میں کئی راز ہیں نہ تھے غم مُدام، نہ خوشی ابدی ابھی باقی کئی نشیب و فراز ہیں جان سے گزرے تو بھرم ٹوٹ گئے ہم سمجھے کہ وہ بندہ نواز ہیں تھیں رونقیں ہر سُو، ہر دم میلے اب شادمانیاں شہنایاں شاذ ہیں سن لو جو فرمان ہو، مگر یاد رہے مت کان دھرو، وہ تو زٹل باز ہیں شاعر : ضیغم سلطان