پاتال

دیکھا عجیب منظر، کارگاہ دہر میں
ہیں سیاہ دل لوگ جو دعائیں بانٹیں

صفا کیشی عیب ہے، دورِ حاظر میں
عیب کوش حضرت تو فتوے بانٹیں

سمّ ہیں جن کے باطن، خدا کی شان
صبح و شام، وہ ساقی تِریاق بانٹیں

دل میں رات لئے، جو زندہ ہیں ابھی
دمِ آخر بھی دنیا میں ظلمت بانٹیں

خزاؤں بھری، چشمِ ذرد ہے جس کی
وہ مالی نگر نگر گلشن و بہار بانٹیں

ہمت وری کے استعارے ہیں یہ تارے
ہیں سوختہ دل مگر روشنیاں بانٹیں

شاعر : ضیغم سلطان

Comments

Popular posts from this blog

لاہور سے آگے

شبِ تار

روتا چاند