Posts

Showing posts from April, 2026

وقتِ ہجرت

Image
جگنو مر رہے ہیں ، بے چراغی ہے دم گھٹ رہا ہے ، ہر طرف خلا ہے سوئے دشت چلنے کا ارادہ ہے اب تشنہ لب ہوں ، بادل خاموش ہے خزاں نے لوٹ لی چمن کی رونق نرگس اشکبار ہے، کلی بے قرار ہے اسکے در سے چلے آئے خالی ہاتھ خواب ٹوٹے ہیں, اور آنکھ نم ہے بستیاں اجڑ کے راکھ ہوئیں یہاں زہر زہر نگر ہے, وقت ہجرت کا ہے شاعر : ضیغم سلطان

تلاطم

Image
اداس کشتی، شوریدہ سمندر میں ساحلوں کا ٹھکانہ ڈھونڈتی پھری آرزوئے بہار میں بھٹکتی تنہا بلبل دمِ آخر تک دشت میں گاتی پھری کر کے تباہ ہر گل، ہر کلی ، ہر شجر خزاں اپنی سیاہیاں چھپاتی پھری   سنگ دل چاند تاروں میں گھرا رہا دِل زدہ چکور اپنا دل جلاتی پھری یہ دنیا ہے جو صدائے "انا الحق" کو  ہمیشہ مثلِ حرفِ غلط دباتی پھری شاعر : ضیغم سلطان