وقتِ ہجرت

جگنو مر رہے ہیں ، بے چراغی ہے
دم گھٹ رہا ہے ، ہر طرف خلا ہے

سوئے دشت چلنے کا ارادہ ہے اب
تشنہ لب ہوں ، بادل خاموش ہے

خزاں نے لوٹ لی چمن کی رونق
نرگس اشکبار ہے، کلی بے قرار ہے

اسکے در سے چلے آئے خالی ہاتھ
خواب ٹوٹے ہیں, اور آنکھ نم ہے

بستیاں اجڑ کے راکھ ہوئیں یہاں
زہر زہر نگر ہے, وقت ہجرت کا ہے

شاعر : ضیغم سلطان

Comments

Popular posts from this blog

لاہور سے آگے

شبِ تار

روتا چاند