گُم صُم
فضا گم صم ہوئی بوئے بارود سے
فاختہ ملول ہے کہ زیتون کھو دئیے
روش روش جل رہا ہے چمنِ بدحال
اور یہ سقاگر کہاں جا کے سو دئیے
خود جلائے ہیں چنار کے جنگل اور
جنجالی نے ہر الزام جگنو کو دئیے
کسی سے کیا گلہ ، اب کیسی فریاد
قسمت نے کیسے کم ظرف عدو دئیے
تھی جن سے امیدیں مہر و وفا کی
انھوں نے ہی ہزار ہا بارِ اندوہ دئیے
لوٹ آئیں گے اک دن اس گلزار میں
بے خانُماں چرند جاتے ہوئے رو دئیے
گلچیں! تم کیسے داخل ہو گے یہاں
جہاں قدم قدم تم نے سُول بو دئیے
شاعر : ضیغم سلطان
Comments
Post a Comment