امر بیل
امر بیل
امر بیل نے جکڑا ہے ہر شجر کو
ظلمتوں میں گِھر گئے ہیں جگنو
شکستہ ناؤ ڈوبتی جاتی ہے اب
سرمئی دھنِک چھائی ہے ہر سو
دورِ گرگِ آشتی ہے ، سنبھل کے
دوست کے بھیس میں ہیں عدو
رنجور ہے گُل اور بلبل خاموش
بہارِ بےخزاں دفن ہے کنارِ آبجو
کب تلک ماتم ہو گا , کیا معلوم
کہاں چلا ہے ساقی توڑ کے سبو
شاعر : ضیغم سلطان
Comments
Post a Comment