Posts

Showing posts from May, 2026

بے مایہ

Image
موم کب تلک دھوپ  کا کرتی مقابلہ آہستہ آہستہ سوا نیزے پہ سورج آیا غرور تھا بہار  کو اپنی رعنائیوں پر اک دن اسکی بزم میں دورِ خزاں آیا دشتِ بےآب میں جلتے گزاری حیات ہم جل مرے تو ٹسوے بہاتا بادل آیا تھا  دعویٰ حُب، چکور کو  چاند سے خموش رہا وہ جب وقتِ امتحان آیا کہتا تھا اک روز وہ کہ "تو کون ہے؟" آج  وہ بتِ بیداد  بہت لاچار نظر آیا شاعر : ضیغم سلطان