Posts

Showing posts from August, 2026

افق پار

Image
افق پار ڈوبتے سورج کو دیکھا تو سمندر بھی زار زار رونے لگا سرمئی رنگ چھا گیا ہر طرف اور قمر بادلوں میں چھپنے لگا پرندے آشیانوں میں لوٹ گئے جگنو بھی چپ چاپ سونے لگا سناٹے پھیلے اتنے رگ و پے میں سکونِ قلب بھی اب کھونے لگا رات اتری ہے بستی میں کیسی چراغِ راہ بھی مدھم پڑنے لگا شاعر ضیغم سلطان

کاروانِ بہار

Image
کاروانِ بہار سے بچھڑ کر بلبل نے رو رو کے شب و روز  گزارے ہیں مت پوچھو حالِ صحنِ چمن تم جہاں الو سب کے راج دلارے ہیں مرقدِ بہاراں پہ، خزاں سے بچ کر مالی نے کچھ گلاب سنوارے ہیں عہدِ بہار میں سوئے دشت جانا پڑا  تنہا تتلی کے درد کئی سارے ہیں عالمِ بےسروسامانی کا کیا بتائیں چند خواب ہی  اپنے سہارے ہیں اندھیرے اور ویرانے ہیں باغ میں اور فلک پر یہ خاموش تارے ہیں آندھیوں نے زور تو خوب لگایا تھا یہ کس نے کہا ہے کہ ہم ہارے ہیں شاعر : ضیغم سلطان

امر بیل

Image
امر بیل امر بیل نے جکڑا  ہے ہر شجر کو ظلمتوں میں گِھر گئے ہیں جگنو شکستہ ناؤ ڈوبتی  جاتی ہے اب سرمئی  دھنِک چھائی ہے ہر سو دورِ  گرگِ آشتی ہے ، سنبھل کے دوست کے بھیس میں ہیں عدو رنجور ہے گُل اور  بلبل خاموش بہارِ بےخزاں  دفن ہے کنارِ آبجو کب تلک ماتم ہو گا , کیا معلوم کہاں چلا ہے ساقی توڑ کے سبو شاعر : ضیغم سلطان

اداس پھول

Image
اب رنگ کہاں ہے سلامت گلشن میں جابجا چھائی ہے قیامت گلشن میں آخری کلی بھی مٹی اوڑھے سو گئی  تا حدِ نظر ہے بنجر دشت گلشن میں کب تک لڑتی ناتواں بہار ، خزاں سے ہر سِمت پھیلی ہے دہشت گلشن میں گِدھوں کا راج ہے، محکوم ہوئے بلبل الو کہے ہر قدم کو درست گلشن میں امر بیل نے سوسن کو رلا رلا کے مارا کہاں سے آئی یہ نرگسیت گلشن میں زرد موسم کو کس نے بلاوے بھیجے  یہ کیسی ہے بوئے بغاوت گلشن میں کانٹے ہیں، بھونرے ہیں ، گل چیں ہے اب گُل کسے کہے دوست گلشن میں شاعر : ضیغم سلطان