افق پار
افق پار ڈوبتے سورج کو دیکھا تو سمندر بھی زار زار رونے لگا سرمئی رنگ چھا گیا ہر طرف اور قمر بادلوں میں چھپنے لگا پرندے آشیانوں میں لوٹ گئے جگنو بھی چپ چاپ سونے لگا سناٹے پھیلے اتنے رگ و پے میں سکونِ قلب بھی اب کھونے لگا رات اتری ہے بستی میں کیسی چراغِ راہ بھی مدھم پڑنے لگا شاعر ضیغم سلطان