کاروانِ بہار

کاروانِ بہار سے بچھڑ کر بلبل نے
رو رو کے شب و روز  گزارے ہیں

مت پوچھو حالِ صحنِ چمن تم
جہاں الو سب کے راج دلارے ہیں

مرقدِ بہاراں پہ، خزاں سے بچ کر
مالی نے کچھ گلاب سنوارے ہیں

عہدِ بہار میں سوئے دشت جانا پڑا
 تنہا تتلی کے درد کئی سارے ہیں

عالمِ بےسروسامانی کا کیا بتائیں
چند خواب ہی  اپنے سہارے ہیں

اندھیرے اور ویرانے ہیں باغ میں
اور فلک پر یہ خاموش تارے ہیں

آندھیوں نے زور تو خوب لگایا تھا
یہ کس نے کہا ہے کہ ہم ہارے ہیں

شاعر : ضیغم سلطان

Comments

Popular posts from this blog

شبِ تار

روتا چاند

!او مالی