اداس پھول

اب رنگ کہاں ہے سلامت گلشن میں
جابجا چھائی ہے قیامت گلشن میں

آخری کلی بھی مٹی اوڑھے سو گئی 
تا حدِ نظر ہے بنجر دشت گلشن میں

کب تک لڑتی ناتواں بہار ، خزاں سے
ہر سِمت پھیلی ہے دہشت گلشن میں

گِدھوں کا راج ہے، محکوم ہوئے بلبل
الو کہے ہر قدم کو درست گلشن میں

امر بیل نے سوسن کو رلا رلا کے مارا
کہاں سے آئی یہ نرگسیت گلشن میں

زرد موسم کو کس نے بلاوے بھیجے 
یہ کیسی ہے بوئے بغاوت گلشن میں

کانٹے ہیں، بھونرے ہیں ، گل چیں ہے
اب گُل کسے کہے دوست گلشن میں

شاعر : ضیغم سلطان

Comments

Popular posts from this blog

شبِ تار

روتا چاند

!او مالی