بے مایہ

موم کب تلک دھوپ  کا کرتی مقابلہ
آہستہ آہستہ سوا نیزے پہ سورج آیا

غرور تھا بہار  کو اپنی رعنائیوں پر
اک دن اسکی بزم میں دورِ خزاں آیا

دشتِ بےآب میں جلتے گزاری حیات
ہم جل مرے تو ٹسوے بہاتا بادل آیا

تھا  دعویٰ حُب، چکور کو  چاند سے
خموش رہا وہ جب وقتِ امتحان آیا

کہتا تھا اک روز وہ کہ "تو کون ہے؟"
آج  وہ بتِ بیداد  بہت لاچار نظر آیا

شاعر : ضیغم سلطان

Comments

Popular posts from this blog

لاہور سے آگے

شبِ تار

روتا چاند